بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پیڈوفائل امریکی صدر ـ جو اپنی نئی شکست پر پردہ ڈالنے کے لئے کوشاں ہے ـ نے معمول کے جھوٹے دعوؤں کا آمیزہ پیش کرتے ہوئے لکھا:
"پاکستان اور دوسرے ممالک کی درخواست پر، ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ـ ان عظیم کامیابیوں کے پیش نظر جو ہم ایران کے خلاف جنگ میں حاصل کر چکے، نیز ایرانی نمائندوں کے ساتھ ـ مکمل اور حتمی سمجھوتے کی طرف ـ حاصل ہونے والی پیشرفت کو مد نظر رکھتے ہوئے، ـ ناکہ بندی پوری قوت سے باقی رہے لیکن پروجیکٹ فریڈم تھوڑی مدت کے لئے رک جائے، تاکہ ہم دیکھ لیں کہ کیا معاہدہ حتمی شکل اختیار کر کے دستخطوں کے مرحلے تک پہنچ سکتا ہے یا نہیں۔"
نکتہ
واضح رہے کہ پروجیکٹ فریڈم ٹرمپ کے اپنے بیمار ذہن کی تخلیق تھا اور اس میں فوجی کمانڈرز کا کوئی کردار نہیں تھا۔ پاکستان نے امریکہ سے کوئی درخواست نہیں کی تھی، صرف ٹرمپ کے اعلان کے بعد پاکستانیوں نے اس کا بھرم رکھا اور اس کے دعوے کی تردید سے اجتناب کیا۔
جیسا کہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے لئے بھی پاکستان کی درخواست کا سہارا لیا حالانکہ پاکستان نے کوئی درخواست نہیں دی تھی۔ یہ خیالی درخواستیں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے خاتمے میں ٹرمپ کے خیالی کردار سے مماثلت رکھتی ہیں۔ حالانکہ اس جنگ بندی میں بھی ٹرمپ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا اور بھارت نے تو اس کی تردید بھی کردی لیکن پاکستان نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد نہیں کیا تھا۔
ایران کے ساتھ مفید اور مؤثر مذاکرات کا دعویٰ بھی ایک ٹرمپیہ (یا ٹرمپی ذہن کی تخلیق) ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ایران نے کسی قسم کے جاری مذاکرات کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ